مواد پر جائیں
Kot Addu

سیر

دریا دیکھنے آئیں۔ شام بیراج پر گزاریں۔

اچھے مہینے اکتوبر سے مارچ۔ تونسا بیراج پر بولھن کی کشتیاں عموماً ستمبر کے آخر سے اپریل کے شروع تک۔ ریلوے (ADK) یا ملتان روڈ سے آئیں۔

کوٹ ادو یادگاروں کا شہر نہیں۔ یہاں کشش منظر کی ہے: بیراج، کام کرتا دریا، مزاریں، اور گرمی میں پارک۔ یہ صفحہ بتاتا ہے کیا دیکھیں اور کیسے آئیں — ملتان کی عمارتیں یہاں نہیں لگائیں۔

کب جائیںکہاں جائیںکیسا لگے گاکیسے آئیںضروری باتیںدریا

موسم

اکتوبر سے مارچ اچھا وقت ہے۔

سردی

اکتوبر سے مارچ آرام کا وقت۔ ٹھنڈے دن، بیراج پر شام، شہر میں ٹہلنا اچھا لگتا ہے۔

بولھن

تونسا بیراج پر کشتیاں عموماً ستمبر کے آخر سے اپریل کے شروع تک۔ یہ صرف معلومات ہے، بکنگ یہاں نہیں۔

گرمی

گرمی بہت تیز — کبھی ۵۱ ڈگری تک — اور آندھیاں بھی آتی ہیں۔ مئی سے اگست دوپہر گھر میں رہیں۔

کہاں جائیں

شہر اور ضلع کی جگہیں

تونسا بیراج

شہر سے تقریباً ۱۶ کلومیٹر

تونسا بیراج

تونسا ہیڈ بیراج سندھ پر کوٹ ادو سے تقریباً سولہ کلومیٹر اور تونسا شریف سے بیس کلومیٹر دور ہے۔ ۱۹۵۸ میں بن گیا — دریا کو قابو کرتا ہے، تونسا–پنجند (ٹی پی) لنک نہر چناب کی طرف بھیجتا ہے، اور سڑک، ریل، پائپ لائنیں یہیں سے گزرتی ہیں۔ ٹھنڈے مہینوں میں کشتی، پرندے، اور بولھن (سندھ کی ڈولفن) یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔

دریائے سندھ

شہر کا مغربی کنارہ

دریائے سندھ

شہر سندھ کے بالکل مشرق میں ہے، پاکستان کے بیچوں بیچ۔ یہاں کھیت ہیں: آم، کھٹے، گنا، اور نہروں کا جال۔ بارش کے موسم میں بیراج کے قریب نیچی زمین ڈوب بھی سکتی ہے — یہی دریا کی وجہ سے۔

ڈیرہ دین پناہ

ضلع کی بستی اور یونین کونسل

ڈیرہ دین پناہ

ڈیرہ دین پناہ ضلع کوٹ ادو کی بستی بھی ہے اور یونین کونسل بھی۔ حضرت سخی دین پناہ کا مزار یہاں کی پہچان ہے۔ قصبے کا اپنا ریلوے اسٹیشن بھی ہے — کوٹری–اٹک لائن پر۔

کوٹ ادو جنکشن

شہر میں

کوٹ ادو جنکشن

کوٹ ادو جنکشن (ADK) شہر کا اصل ریلوے اسٹیشن ہے۔ کوٹری–اٹک لائن پر ہے، ایک لائن شیر شاہ کی طرف جاتی ہے۔ بہت سے آنے والوں کی پہلی نظر سڑک نہیں، اسٹیشن پر پڑتی ہے۔

تجربہ

یہاں آ کر کیا محسوس ہوتا ہے

بیراج کی شام

تونسا بیراج پر سندھ میں سورج ڈوبتا ہے، شہر سے سولہ کلومیٹر۔

نہریں

مظفر اور ٹی پی لنک دریا کا پانی کھیتوں تک لاتی ہیں۔ یہی نظارہ دیکھنے آتے ہیں۔

بازار

کریم داد قریشی روڈ عام کام والی سڑک ہے، صرف دیکھنے کی جگہ نہیں۔

ملتان نہیں

مزارات اور کلاک پلازہ یہاں نہیں۔ یہ گائیڈ صرف کوٹ ادو اور اس کے ضلع کی بات کرتی ہے۔

آنا

پہلے ریلوے، پھر سڑک

دور سے زیادہ تر لوگ ٹرین یا ملتان کی سڑک سے آتے ہیں۔ یہ شہر رکنے کی جگہ نہیں — یہ جنکشن ہے: پٹری آگے سندھ کے ساتھ جاتی رہتی ہے۔

اسٹیشن کوڈ ADK

ریلوے

کوٹ ادو جنکشن کوٹری–اٹک لائن پر ہے۔ ایک لائن شیر شاہ–کوٹ ادو سے ملتی ہے۔ قریب کے اسٹیشن سناواں اور ڈیرہ دین پناہ ہیں۔

ٹرین کے اوقات: اوقات موسم کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ سفر سے پہلے پاکستان ریلوے دیکھ لیں — ٹکٹ اسٹیشن یا سرکاری سائٹ سے۔ پاکستان ریلوے

جنوبی پنجاب

سڑک

  • تونسا بیراج: تقریباً 16 کلومیٹر
  • مظفرگڑھ: تقریباً 60 کلومیٹر
  • لیہ: تقریباً 60 کلومیٹر
  • ملتان: تقریباً 80 کلومیٹر
  • ڈیرہ غازی خان: تقریباً 80 کلومیٹر
  • اسلام آباد: تقریباً 600 کلومیٹر
  • کراچی: تقریباً 866 کلومیٹر

ملتان کے راستے

ہوائی جہاز

کوٹ ادو میں ہوائی اڈہ نہیں۔ ملتان ایئرپورٹ اتریں، پھر سڑک (تقریباً ۷۰ سے ۱۰۰ کلومیٹر) یا ٹرین۔

راستہ

یہ سارے راستے کیسے ملتے ہیں

  1. ملتان ایئرپورٹ (MUX) → کوٹ ادو سڑک سے، تقریباً ۸۰ کلومیٹر
  2. کوٹ ادو جنکشن (ADK) → تونسا بیراج، تقریباً ۱۶ کلومیٹر
  3. کوٹ ادو → محمود کوٹ / پارکو، تھوڑی دیر جنوب

کوٹ ادو کا بڑا نقشہ کھولیں · © OpenStreetMap contributors

ضروری باتیں

یہاں آ کر کیا چاہیے

ایمرجنسی نمبر پورے ملک میں ایک جیسے ہیں۔ باقی سب کے لیے بازار والی سڑک ہی کام آتی ہے۔

ہسپتال

ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔ اسکول اور صحت کے لیے شہر والا صفحہ دیکھیں۔

ایمرجنسی

ایمبولینس: ریسکیو ۱۱۲۲ (پنجاب)۔ پولیس: ۱۵۔

پیسے اور پٹرول

اے ٹی ایم اور پٹرول پمپ کریم داد قریشی روڈ اور ملتان روڈ پر مل جاتے ہیں۔

فون اور پوسٹ

لینڈ لائن کوڈ ۰۶۶ · پوسٹ کوڈ ۳۴۰۵۰۔ موبائل نیٹ ورک شہر میں چلتے ہیں۔

اگست ۲۰۱۰ میں تونسا بیراج کے قریب سندھ کا سیلاب، سیٹلائٹ تصویر

دریا کے ساتھ رہنا

سندھ کھیتوں کو پانی دیتا ہے۔ سیلاب بھی لا سکتا ہے۔

یہ سیلابی میدان ہے۔ بارش کے موسم میں تونسا بیراج کے قریب نیچی زمین ڈوب سکتی ہے۔ نہریں، گرمی، اور سیلاب — سب ایک ہی جگہ کی بات ہے، صرف سیاحت کی کہانی نہیں۔

اگست ۲۰۱۰ میں سندھ پر بڑا سیلاب تونسا بیراج پر آیا — ۲ اگست کو تقریباً ۹۶۰،۰۰۰ کیوسک پانی، ۱۹۵۸ سے بھی زیادہ۔ بائیں طرف کی فصیل پھٹی؛ پانی مظفرگڑھ نہر اور تونسا–پنجند لنک میں بھر گیا۔ کوٹ ادو، محمود کوٹ، اور نہر و دریا کے درمیان کھیت دنوں تک پانی میں رہے۔ فوج نے کشتیوں اور ہیلی کاپٹر سے ہزاروں کو نکالا۔ دریا کنارے پاور پلانٹ بند ہوئے۔ آج بھی جب لوگ کہتے ہیں دریا کیا کر سکتا ہے تو یہی واقعہ یاد آتا ہے۔

تصویر: NASA / Wikimedia Commons (سب کے لیے آزاد)