تمام کہانیاںشائع 3 منٹ
نارتھ ویسٹرن ریلوے کی سندھ ساگر برانچ 1886 میں بنی۔ یہ شیر شاہ پر چناب پار کر کے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کے ساتھ شمال کو مڑتی تھی — مظفرگڑھ، بدھ، محمود کوٹ، گورمانی، سناواں، کوٹ ادو، ڈیرہ دین پناہ اور احسان پور سے ہوتی ہوئی۔ 1908 میں ضلعی گزیٹیئر نے کوٹ ادو کو «اب ایک اہم ریلوے اسٹیشن» لکھا، مظفرگڑھ سے 33 میل — ایک قصبہ جو اس وقت تیر کمان بنانے کے لیے مشہور تھا۔ اس وقت جنکشن محمود کوٹ تھا، جہاں سے ایک شاخ مغرب میں غازی گھاٹ جاتی تھی۔
بیراج پر پل
تبدیلی 1960 کی دہائی میں آئی۔ کوٹ ادو سے دریائے سندھ پار ڈیرہ غازی خان تک لائن 1964 میں 4.17 کروڑ روپے میں منظور ہوئی، اور اسی دسمبر کام شروع ہوا جس کا تعمیراتی مرکز کوٹ ادو تھا۔ تونسا بیراج پر ریلوے پل دونوں سروں کے درمیان 4,336 فٹ لمبا ہے، 66 پلیٹ گرڈر اسپینز پر جو برطانیہ کی بٹرلی اینڈ کمپنی نے بنائے — اور جو ریل کے ذریعے کوٹ ادو اسٹیشن پہنچے۔ پہلی میٹیریل ٹرین 6 مارچ 1968 کو گزری؛ لائن 8 جولائی 1968 کو مال گاڑیوں اور 23 مارچ 1969 کو مسافروں کے لیے کھلی۔
پاکستان ریلوے کے ریکارڈ کے مطابق آگے کشمور تک لائن 1969 سے 1973 کے درمیان بنی، جس نے کراچی سے اپ کنٹری کا متبادل راستہ فراہم کیا۔ کوٹ ادو وہ جگہ بن گیا جہاں ملتان سے آنے والی شیر شاہ برانچ اس راستے سے ملتی ہے — آج کی کوٹری–اٹک لائن، ایم ایل–2۔ اس کا اسٹیشن کوڈ ADK ہے۔
ٹرینیں، تیل، اور سیلاب
2019 کے ضلعی گزیٹیئر کے مطابق کوٹ ادو سے گزرنے والی ملتان–کندیاں لائن پر روزانہ دو مسافر ٹرینیں تھیں، مہر ایکسپریس اور تھل ایکسپریس — جو کبھی چھ تھیں — اور ساتھ تقریباً تین مال گاڑیاں اور چھ آئل ٹرینیں۔ تیل اگلے جنکشن محمود کوٹ سے آتا ہے، جہاں پارکو کی ریفائنری اور آئل کمپنیوں کے ٹرمینل روزانہ خام اور صاف شدہ تیل لادتے ہیں۔ خوشحال خان خٹک ایکسپریس، کراچی سے پشاور براستہ کوٹ ادو، اپریل 2025 میں بحال ہوئی — تقریباً 1,512 کلومیٹر، کوئی 34 گھنٹے میں، اگرچہ ذرائع میں اختلاف ہے کہ یہ روزانہ چلتی ہے یا نہیں۔
دریا نے لائن کو آزمایا بھی ہے۔ اگست 2010 کے سیلاب میں ملتان–راولپنڈی سیکشن پر ٹریفک رک گئی؛ ٹوٹے ہوئے پشتے کے پانی سے کوٹ ادو اور تونسا بیراج اسٹیشنوں کے درمیان تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر لائن تباہ ہوئی، اور بدھ اور محمود کوٹ کے درمیان تقریباً ڈھائی کلومیٹر مزید۔
ذرائع
اس کہانی کی معلومات نیچے دیے گئے ذرائع سے ہیں۔ کوئی غلطی نظر آئے تو hello@kotaddu.pk پر لکھیں۔
- Muzaffargarh District Gazetteer, 1908 (full text, Internet Archive)
- Pakistan Engineering Congress — Kot Adu–D.G. Khan railway and Taunsa bridge (paper 820)
- Pakistan Railways — History (archived)
- Punjab District Gazetteer, Muzaffargarh 2019 — transport chapter
- Wikipedia — Kot Addu Junction railway station
- Dawn — Khushhal Khan Khattak Express restored (April 2025)
- Dawn — Flood hits Kot Addu, threatens Kapco (4 August 2010)
- Sajjad et al. (2019) — 2010 flood at Taunsa



