تمام کہانیاںشائع 3 منٹ
تونسا بیراج کھلنے کے بعد اس میدان میں مظفرگڑھ نہر اور تونسا–پنجند لنک کھودی گئیں؛ صرف لنک 58 کلومیٹر میں 12,000 کیوسک پانی لے جاتی ہے۔ کوٹ ادو کی میونسپل کمیٹی تحصیل سے گزرنے والی دو بڑی نہروں اور آٹھ ذیلی نہروں کا ذکر کرتی ہے، اور زیرِ کاشت رقبہ تقریباً 425,000 ایکڑ بتاتی ہے۔
ضلعی گزیٹیئر تحصیل کوٹ ادو میں دو منظر بیان کرتا ہے۔ نہری طرف زرخیز میرا زمین پر گندم، چاول، گنا اور کپاس ہوتی ہے — اگرچہ برسوں کی گنے کی کاشت سے سیم اور تھور بڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف ریت کے ٹیلے ہیں جہاں بارانی کاشت ہوتی ہے، یا انہیں ہموار کر کے ڈرپ اور رین گن سے گندم اور چنا اگایا جاتا ہے۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ چوک سرور شہید کے اردگرد کھٹوں کے بہت سے باغ لگے ہیں، اور مزید لگ رہے ہیں۔
گنا اور ملیں
گنا ضلع کی بڑی فصل ہے۔ پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروس کے مطابق 2024–25 میں ضلع کوٹ ادو میں 91,000 ایکڑ پر گنا تھا، پیداوار تقریباً 2.76 ملین ٹن (پچھلے سال 3.16 ملین) — باقی رہ جانے والے ضلع مظفرگڑھ کے گنے کے رقبے سے دگنے سے زیادہ۔ تحصیل میں دو ملیں ہیں۔ سناواں کے قریب فاطمہ شوگر ملز 1989 سے ہے اور اب روزانہ 20,000 ٹن تک گنا پیستی ہے؛ 2024–25 میں اس نے 135,600 ٹن چینی بنائی۔ انور آباد میں شیخو شوگر ملز نے 1994 میں پسائی شروع کی اور 2022 میں روزانہ 24,000 ٹن تک پہنچی، جسے کمپنی پاکستان کی سب سے بڑی سنگل ٹینڈم مل کہتی ہے۔
2024–25 میں گندم 235,000 ایکڑ پر تھی اور تقریباً 317,000 ٹن پیداوار ہوئی۔ کپاس گھٹ رہی ہے — 32,000 سے کم ہو کر 22,000 ایکڑ — جبکہ تل 40,000 ایکڑ سے زیادہ پر پھیل گیا ہے۔
گرمی میں آم
آم علاقے کی شان ہیں — سندھڑی، چونسا، دسہری، انور رٹول، لنگڑا — لیکن ضلع کوٹ ادو کے آموں کا ابھی کوئی الگ سرکاری عدد نہیں؛ 2019 کے گزیٹیئر کا 46,500 ایکڑ پورے پرانے مظفرگڑھ کا تھا۔ گرمی نئی کہانی ہے۔ جون 2026 میں ڈان نے کوٹ ادو میں تقریباً 100 ایکڑ پر آم اگانے والی رابعہ سلطان کا حوالہ دیا: ان کے علاقے میں تقریباً 40 فیصد فصل خراب ہو گئی، اس فروری کے بعد جس میں بارش معمول سے 88.8 فیصد کم تھی۔ جولائی میں مظفرگڑھ کے مینگو فیسٹیول میں کوٹ ادو کا ایک فارم بھی اسٹالوں میں شامل تھا۔
جس بیراج نے نہریں دیں اس نے کچھ لے بھی لیا۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ اس سے سیلابی زمین کی پرانی سیلابہ کاشت بہت کم ہو گئی: کوٹ ادو کے سامنے دریائی علاقے کا بڑا حصہ کھڑے پانی میں بدل گیا جہاں کچھ نہیں اگتا۔
ذرائع
اس کہانی کی معلومات نیچے دیے گئے ذرائع سے ہیں۔ کوئی غلطی نظر آئے تو hello@kotaddu.pk پر لکھیں۔
- Punjab District Gazetteer, Muzaffargarh 2019 — agriculture chapter
- Punjab District Gazetteer, Muzaffargarh 2019 — irrigation chapter
- Crop Reporting Service Punjab — Final Rabi Estimates 2024–25
- Crop Reporting Service Punjab — Final Kharif Estimates 2024–25
- Fatima Sugar Mills
- Sheikhoo Sugar Mills
- Kot Addu Municipal Committee — History
- Dawn — mango growers and the heat (June 2026)
- APP — Mango festival concludes (July 2026)



