تمام کہانیاںشائع ۲ منٹ
وہ ۱۹۲۶ میں تھل کے کنارے سناواں کے قریب بستی تمبو والی میں غلام محمد کے نام سے پیدا ہوئے، جو اب ضلع کوٹ ادو میں ہے۔ بچپن میں سخت بیمار ہوئے؛ روحانی مشورے پر والدہ نے ان کا نام بدل دیا — روایت ہے کہ کسی نے کہا یہ پٹھان لگتا ہے — اور وہ پٹھانے خان ہی رہے۔ ان کے والد خمیسہ خان تھے، اور پہلے استاد بابا میر خان۔
ایک حالیہ مضمون ان کی پیدائش ۱۹۲۰ میں سناواں کے قریب ایک اور گاؤں میں بتاتا ہے؛ سرکاری خبر رساں ادارہ، ڈان اور زیادہ تر حوالے ۱۹۲۶ اور بستی تمبو والی لکھتے ہیں۔
فرید کی کافیاں
ان کا کلام صوفی شاعری تھا، سب سے بڑھ کر خواجہ غلام فرید کی کافیاں، اور شاہ حسین، بلھے شاہ اور دوسرے۔ ان کی آواز سے سب سے زیادہ جڑے کلام میں «میڈا عشق وی توں»، «چھینا ایں چھنیندا یار»، «پیلو پکیاں نی» اور «جندڑی لُٹی» شامل ہیں۔
ریڈیو پاکستان ملتان نے انہیں پہچان دی، اور وہ اپنی شہرت کا سہرا اسی کو دیتے تھے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے ذریعے انہیں اسلام آباد بلایا — سال کے بارے میں ذرائع میں اختلاف ہے۔ ۱۹۷۹ میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا۔ ان کا پہلا البم «میں وی جانا جھوک رانجھن» ۱۹۸۴ میں آیا؛ آخری «کافی» ۱۹۹۹ میں۔
کوٹ ادو میں مدفون
طویل بیماری کے بعد ۹ مارچ ۲۰۰۰ کو کوٹ ادو میں وفات پائی اور وہیں دفن ہیں۔ ہر مارچ شہر ان کی برسی مناتا ہے۔ ۱۰ مارچ ۲۰۲۵ کو پچیسویں برسی پر مقامی گلوکار، ان کا خاندان اور ڈپٹی کمشنر جمع ہوئے، اور ان کے بیٹے اقبال پٹھانے خان نے والد کی کافیاں گائیں۔
ذرائع
اس کہانی کی معلومات نیچے دیے گئے ذرائع سے ہیں۔ کوئی غلطی نظر آئے تو hello@kotaddu.pk پر لکھیں۔



