مواد پر جائیں
Kot Addu

ثقافت

دین پناہ کا مزار

کوٹ ادو کے شمال میں نیلی ٹائلوں والا مزار، دریا کنارے ملا ایک بچہ جو ولی بنا اور جس پر دریا کے دونوں کنارے دعویٰ کرتے ہیں، اور صدی بھر کے زائرین — ضلعی گزیٹیئرز کی روشنی میں۔

تمام کہانیاںشائع 3 منٹ

1908 کے ضلعی گزیٹیئر نے ڈیرہ دین پناہ کو کوٹ ادو سے سات میل شمال اور دریائے سندھ سے پانچ میل دور، ڈیرہ اسماعیل خان کی سڑک پر بتایا۔ قصبے کے اوپر «نیلی اور سفید ٹائلوں سے ڈھکی ایک خوبصورت گنبد دار عمارت» کھڑی ہے: اس ولی کا مزار جس کے نام پر قصبہ ہے۔ روایت میں ان کا نام سید عبدالوہاب بخاری ہے۔ 1908 کا گزیٹیئر انہیں تین سو سال پہلے یہاں آباد ہونے والا بخاری سید لکھتا ہے؛ 2019 کا ایڈیشن کہتا ہے کہ وہ تقریباً چار سو سال پہلے افغانستان سے آئے۔

دریا کنارے ملا بچہ، جہیز، اور دو مزار

گزیٹیئر روایت کو ویسے ہی لکھتا ہے جیسے سنائی جاتی تھی۔ انہیں مائی سہاگن نے پالا، جو مکوال جٹ اکو کی بیوی تھیں اور جنہیں وہ بچپن میں دریائے سندھ کے کنارے ملے تھے۔ انہوں نے مائی کی جائیداد خیرات کر دی، اور جب ان کی بیٹی رابعہ کی شادی سانگھڑ کے ایک آدمی سے ہوئی تو خود کو جہیز میں پیش کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ 1012ھ میں دریا کے مغربی کنارے پر وفات پائی۔ پھر دونوں کناروں کے مکوال ان کے تابوت پر جھگڑ پڑے، یہاں تک کہ وہ خواب میں آئے — اور گزیٹیئر کے مطابق تب سے دریا کے دونوں کناروں پر ایک ایک مزار ہے۔

مزار کے ساتھ دو اور روایات بھی ہیں۔ ایک کے مطابق شہنشاہ اکبر سنیاسی کے بھیس میں آیا اور مرید بننے کے لیے اپنے بالوں کی لٹ پیش کی، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ کچھ مقامی بیانات کہتے ہیں کہ مزار اکبر نے بنوایا؛ 1908 کا گزیٹیئر اس کے بجائے ایک ساربان میاں ہرن کا نام لیتا ہے، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ ہر شام اونٹ کی کاٹھی میں اتنی رقم مل جاتی جتنی درکار ہوتی۔ دونوں روایات ہیں، ریکارڈ نہیں — کوئی ذریعہ مزار کی تعمیر کا سال نہیں بتاتا۔

ہندو اور مسلمان دونوں

1908 میں یہ مزار ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کی زیارت گاہ تھا، اور بچے کے پہلے بال کٹوانے کی پسندیدہ جگہ۔ ہاڑ اور بھادوں کے مہینوں میں پورے ضلع کے علاوہ بھکر، لیہ، ڈیرہ اسماعیل خان، جھنگ اور منٹگمری سے زائرین آتے؛ نذرانے سال میں تقریباً 8,000 روپے ہوتے۔ گزیٹیئر نے یہ بھی لکھا کہ کچھ ٹائلیں بدلی جا چکی ہیں اور کچھ کا رنگ اُڑ رہا ہے۔ 1909–10 میں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر ہری کشن کول نے مزار کی بڑی بحالی کروائی۔

آج کا مزار

مائی سہاگن کی اولاد مکوال آج بھی اس کے متولی ہیں، اور خاندان کا سربراہ مخدوم کہلاتا ہے۔ محکمہ اوقاف نے 23 جولائی 1960 کو مزار اپنی تحویل میں لیا، اور 2019 کا گزیٹیئر عرس ہر سال 21–22 اگست کو بتاتا ہے۔ اس کی حالت تشویش ناک ہے: 2019 میں ڈان نے لکھا کہ اوقاف نے عمارت کو خطرناک قرار دیا ہے، کوئی سیکیورٹی نہیں، اور مزار کی سات کنال زمین میں سے چار پر ناجائز قبضہ ہے۔

ذرائع

اس کہانی کی معلومات نیچے دیے گئے ذرائع سے ہیں۔ کوئی غلطی نظر آئے تو hello@kotaddu.pk پر لکھیں۔

  1. Muzaffargarh District Gazetteer, 1908 (full text, Internet Archive)
  2. Punjab District Gazetteer, Muzaffargarh 2019 — chapter 1
  3. Punjab District Gazetteer, Muzaffargarh 2019 — Auqaf list
  4. Dawn — the shrine of Din Panah (2019)

مزید کہانیاں